Feeds:
Posts
Comments

Archive for November, 2014

iqbal

میں نے ایک مرتبہ حضرت علّامہ سے دریافت کیا: “حضرت! تحریر میں سادگی اور سلالت کے متعلق یہ جو غل غپاڑہ ہو رہا ہے آپ کا اس کے متعلق کیا خیال ہے؟” یہ سوال میں نے اس لئے کیا تھا کہ حضرت کی شاعری میں محاورے کی بے تکلفی موجود نہ تھی اور اس پر بحثیں ہو رہی تھیں. خصوصا ہندو کہتے تھے کہ یہ شاعری اردو شاعری نہیں، فارسی ہے یا فارسی ترکی آمیز … علّامہ نے فرمایا: “میری تہذیب مرکّب تہذیب  ہے. اس کی روح عربی ہے مگر اس کا لباس ترکی و تتار اور خوانسار و اصفہان نے تیار کیا ہے. میں جو اردو لکھتا ہوں میری تہذیب کی نمائندگی کرتی ہے اور میں اس کو چھوڑ نہیں سکتا. شانِ جلالت، رعب اور دبدبہ اس کی اوصافِ خاص ہیں. میں ہندی سے بھی متاثر نہیں ہوتا ہوں. میرے الفاظ کا ذخیرہ عرب سے پھر سمرقند و بخارا سے ماخذ ہے.” علامہ کی یہ رائے شاعری کے متعلق تھی. لیکن نثر کی علمی تحریروں میں بھی انہوں نے عرب کو نظرانداز نہیں کیا کیونکہ ان کا خیال یہ تھا کہ اردو زبان خصوصا عملی زبان کو وزن دار اور رعب دار ضرور ہونا چاہیے. اور ان کی عِلمی زبان ہی اس کا معیار ہے. اقبال، مولانا آزاد اور ظفر علی خان تینوں سہل زبان لکھنے پر بھی قادر تھے. لیکن وہ اپنی زبان کو اس تہذیب کا ترجمان اور نشان بنانا چاہتے تھے جو برگستواں اور قہستان کا دبدبہ رکھتی ہو. یہ مقامی اور زمینی رنگ اور عورتوں کی بولی قہستانی تہذیب کے حسبِ حال نہیں ہو سکتی. یہ معلوم ہے کہ علّامہ نے کہستان کو قہستان لکھ کر اپنے لہجے اور ذوق کی خارا پسندی کا ثبوت دیا ہے. بعض لوگ اس کو روزمرہ کی مخالفت کہیں گے. بعض دوسرے اس کو مشکل پسندی قرار دیں گے. لیکن ظاہر ہے کہ قلعہ احمد نگر کا معمار قیصر باغ کا معمار نہیں ہو سکتا. ا

ڈاکٹر سید عبدللہ – پیش لفظ “مقالاتِ اقبال” مرتّبہ سید عبدالواحد معینی

Advertisements

Read Full Post »